13

این اے78 نارووال : ابرار الحق کا سب سے بڑا سیاسی چھکا ۔۔۔۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کی کن کن شخصیات کو اپنے ساتھ ملا لیا؟ جان کر پی ٹی آئی ٹائیگرز خوش ہوجائیں گے

نارووال (انر پاکستان آن لائن) ضلع نارووال میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 78 گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلم لیگ نون کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کے مرکزی رہنما پروفیسر احسن اقبال یہاں سے چار مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔

تاہم آئندہ الیکشن کے لیے تحریکِ انصاف کے اُمیدوار اور مرکزی رہنما ابرار الحق کی انتخابی مہم اور تازہ ترین سیاسی چھکوں نے نون لیگ کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔گزشتہ دنوں ابرار الحق نے احسن اقبال کے آبائی علاقے قلعہ احمد آباد اور ملحقہ علاقوں پر مشتمل این اے 78 کے پہلے ذیلی صوبائی حلقے پی پی 48 کے کم از کم 10 نون لیگی چئیرمینوں کو اپنے ساتھ ملا کر احسن اقبال کی الیکشن مہم کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔گزشتہ دنوں یونین کونسل ڈلہ پور کے چئیرمین اکبر خان شیروانی نے اپنے ساتھیوں سمیت ناصرف پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی بلکہ ایک سیاسی افطار ڈنر کا اہتمام بھی کیا جس میں ابرار الحق مہمان خصوصی تھے۔اس اجتماع میں موجود تمام چیئرمینوں نے ابرار الحق اور تحریکِ انصاف کی حمایت کا اعلان کیا۔اس کے ساتھ ہی اکبر خان شیروانی نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے پی پی 48 سے الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کیا۔سیاسی ماہرین چئیرمینوں کے ایک بڑے اور بااثر گروپ کی جانب سے ابرار الحق کی حمایت کیے جانے کو اُن کے لیے بڑی کامیابی جبکہ احسن اقبال کے لیے بڑا نقصان قرار دیتے ہیں۔دوسری جانب این اے 78 کے دوسرے ذیلی صوبائی حلقے پی پی 49 میں مسلم لیگ نون کے پلیٹ فارم سے چیئرمین منتخب ہونے والے ایک بااثر سیاستدان رانا حفیظ احمد خاں نے بھی آئندہ الیکشن میں بطور آزاد اُمیدوار حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ رانا حفیظ نے 2008 ء اور 2013 ء کے عام انتخابات میں ناصرف احسن اقبال کی بھرپور حمایت کی تھی بلکہ انہیں اپنے علاقے سے ریکارڈ ووٹ دلوا کر جتوایا بھی تھا۔یہ رانا حفیظ کی حمایت کا ہی نتیجہ تھا کہ گزشتہ انتخابات میں پی پی 49 کے علاقوں میں احسن اقبال کے مخالف اُمیدواروں کو پولنگ ایجنٹ تک ملنا مشکل ہو گئے تھے۔تاہم اب رانا حفیظ اس حلقے سے مسلم لیگ نون کے موجودہ صوبائی امیدوار بلال اکبر خاں کے ساتھ سیاسی اختلافات کی وجہ سے احسن اقبال یا کسی بھی دوسرے لیگی اُمیدوار کی حمایت کو تیار نہیں ہیں۔2013ء کے عام انتخابات میں احسن اقبال نے لگ بھگ 95 ہزار ووٹ لیتے ہوئے ابرار الحق کو لگ بھگ 33 ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی تھی۔ان کے بطور آزاد اُمیدوار الیکشن لڑنے سے مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک کافی حد تک متاثر ہو گا جبکہ تحریک انصاف کو ناصرف قومی بلکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔این اے 78 کا تیسرا ذیلی صوبائی حلقہ پی پی 50 سابقہ وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں یہاں یونیورسٹیوں کی منظوری، ڈسٹرکٹ ہسپتال کی اپ گریڈیشن، ماڈل ریلوے اسٹیشن اور اہم شاہراہوں کی تعمیر جیسے کئی ترقیاتی کام کروائے ہیں۔

مگر گزشتہ دنوں ابرار الحق نے اس حلقے سے بھی مسلم لیگ ن اور احسن اقبال کے قریبی ساتھی چیئرمین یونین کونسل دھرگ میانہ چوہدری محمد سجاد مہیس کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے تحریک انصاف کا پارٹی پرچم ان کے گلے میں ڈال دیا ہے۔سجاد مہیس کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے پی پی 50 میں تحریکِ انصاف کی پوزیشن متحکم ہو گئی ہے۔گزشتہ دنوں سجاد مہیس نے اپنے ڈیرے پر ایک بڑا سیاسی افطار ڈنر دیا جس میں چوہدری ابرار الحق سمیت درجنوں چیئرمین اور ہزاروں ووٹرز شامل ہوئے۔ اس موقعے پر سجاد مہیس نے بھی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پی پی 50 سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیاہر گُزرتے دن کے ساتھ حلقے میں ابرار الحق کی بڑھتی ہوئی مقبولیت احسن اقبال کے لیے بلا شُبہ نقصان دے ثابت ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ 2013ء کے عام انتخابات میں احسن اقبال نے لگ بھگ 95 ہزار ووٹ لیتے ہوئے ابرار الحق کو لگ بھگ 33 ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں