13

قوم کے پیسوں پر ڈاکہ ۔۔۔ کرپشن میں ملوث اداروں کے خلاف چیف جسٹس نے دبنگ فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (انر پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے قرض معاف کروانے والی دو سو بائیس کمپنیوں سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس نےریمارکس دیے قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے حوالے کردیں گے،جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 54 ارب روپے کے

قرضوں سےمتعلق ازخود نوٹس پرسماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے قرضے معاف کرانے والی دو سو بائیس کمپنیوں سےایک ہفتےمیں تفصیلی جواب طلب کرلیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے حوالے کردیں گے اور نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کے چوون ارب کھانے کے باوجود تاحال کمپنیاں کام کررہی ہیں، پیسے بھی ہضم، لینڈ کروزر اور کاروبار بھی چل رہےہیں۔فریقوں کے وکلا نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا اس اہم کیس کوملتوی نہیں کرسکتا، روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ایس ای سی پی کے ذریعے کمپنیوں کو نوٹسز دیے جائیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا پبلک نوٹس کردیا کوئی نہیں آتا تو اپنے رسک پر مت آئے، جو کمپنیاں نہیں آئیں گی، ان کےخلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی۔عدالت نے فریقوں سے انیس جون تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ نے راولپنڈی و اسلام آباد میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیئرمین سی ڈی اے کو طلب کرلیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کر رہے ہیں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وہ تمام لوگ موجود ہیں جن کے ٹیوب ویلز ہیں جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 8 لوگ آج کمرہ عدالت میں موجود ہیں جن میں زمرد خان، ملک ابرار، شہزادہ خان، سجاول محبوب سمیت دیگر شامل ہیں۔ ملک ابرار نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میرا نام ملک ابرار ہے میں سابق رکن قومی اسمبلی ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھوڑیں آپ جو بھی ہیں مدعے پر آئیں جس پر ملک ابرار نے کہا کہ میرا کوئی ٹیوب ویل نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم آپ کا بیان نوٹ کرلیتے ہیں، اگر آپ نے غلط بیانی کی تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔چیف جسٹس نے پیش ہونے والے دوسرے شخص زمرد خان سے کہا کہ آپ بتائیں آپ پر بھی الزام ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر غلط الزام ہے میرا کوئی ٹیوب ویل نہیں۔ زمرد خان نے کہا کہ سماجی کارکن کی حیثیت سے کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں، راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقہ میں پانی کا شدید بحران ہے، کینٹ بورڈ اور سی ڈی اے ایک دوسرے سے تعاون نہیں کر رہے۔زمرد خان نے بتایا کہ کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پر انتظامیہ کی جانب سے پانی نہیں دیا جارہا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا لوگ ٹینکرز کا پانی استعمال کرتے ہیں،

اتنا پانی یہ لوگ مفت میں لے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پانی کی فراہمی سے متعلق ضابطہ ابھی تک کیوں نہیں بنا، اس موقع پر میونسپل کاپوریشن کے نمائندے کہا کہ آئندہ اجلاس میں ٹیوب ویل سے پانی استعمال کرنے والوں پر ٹیکس لگانے کا سوچ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد ہی آپ کو کیوں یاد آتا ہے، کتنے دن میں ٹیکس لگانے کا فیصلہ کرلیں گے۔نمائندہ میونسپل نے عدالت سے 15 روز کا وقت مانگ لیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن پانی کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی بنائیں۔اس موقع پر سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ نے چیئرمین سی ڈی اے کو بھی طلب کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں