20

پنجاب کا اگلا وزیر اعلیٰ میں ہونگا ۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کے نامور سیاستدان نے اعلان کر دیا

ملتان (انر پاکستان آن لائن) ’’پنجاب کا اگلا وزیر اعلیٰ بنوں گا‘‘ شاہ محمود قریشی نے اس دعوے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنالیا۔ حلقہ میں مہم چلاتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے۔ ایک روزنامہ اخبار کے مطابق انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب میں نمائندہ

شخصیات اور حلقہ کی بااثر برادریوں کی یہ پیغام دینا شروع کر دیا ہے کہ تحریک انصاف کی کامیابی کی صورت میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ انہیں ہی ملے گی ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنیت اور قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کے بعد منگل کو اپنے آبائی شہر ملتان میں ایئرپورٹ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان پر تنقید کرنے والے سن لیں کہ انہیں وزارت سے نکالا نہیں گیا بلکہ انہوں نے 30 جنوری کو خود وزارت سے استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس ملک کو درپیش اقتصادی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ کرسی بچانے کا نہیں پاکستان بچانے کا وقت ہے، اسمبلیوں میں بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ تب ہی میں نے کہا تھا، شاہ جی اٹھو اب کوچ کرو، اس ایوان میں جی کو لگانا کیا، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو آج جن اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے زرداری اور گیلانی صاحب کی حکومت کے پاس ان کا حل نہیں۔‘‘شاہ محمود قریشی کی جانب سے استعفے کے اعلان پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے میر جعفر اور میر صادق کی یاد تازہ کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کا بھوکا شخص کسی کا وفادار نہیں ہوتا۔شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن جماعتوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ اسمبلی نشستوں سے استعفے دے دیں۔اس بارے میں اپنے ردعمل میں وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ان کی خواہشات یہ ہیں کہ جب ہم جا رہے ہیں تو اس ملک سے جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو بھی ختم کیا جائے اور وہ ڈرون حملے کر کے اس پارلیمنٹ کے وجود کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ادھر شاہ محمود قریشی کے مستقبل میں سیاسی لائحہ عمل سے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں دعویٰ کیا کہ شاہ محمود قریشی ان کی جماعت میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔تاہم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان 27 نومبر کو سندھ کے ضلع گھوٹکی میں جلسہ عام سے خطاب میں کریں گے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یوں تو شاہ محمود قریشی گزشتہ کئی ماہ سے پیپلز پارٹی سے الگ ہو چکے تھے

تاہم ان کے باقاعدہ استعفے سے پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں