14

وہ ممالک جہاں روزہ افطار کرنے کے لیے توپ سے گولے داغے جاتے ہیں؟ نام آپ کو بھی حیران کر دیں گے

لاہور (انر پاکستان آن لائن) پاکستان میں جہاں ڈھول اور باجے کے ذریعے سحری پر جگانے کی روایت برقرار ہےوہیں کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں توپ سے گولہ داغ کر افطار کا اعلان کیا جاتا ہے توپ سے گولہ داغ کرافطارکا اعلان متحدہ عرب امارات میں برسوں پرانی روایت ہے۔ اس کو ٹی وی

اورسوشل میڈیا پربراہ راست نشرکیا جاتا ہے۔توپ چلنے کی آواز10کلومیٹردور تک سنائی دیتی ہے سعودی عرب،مصر،کویت اوربنگلادیش میں بھی روایت موجود ہےکہ توپ چلاکرافطارکا اعلان کیا جاتا ہے توپوں کے ساتھ تصاویر بنانے کے لیےشہریوں کا رش لگ جاتا ہےدوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق رمضان المبارک میں توپ کے گولوں کی گھن گرج سے تقریبا پوری عرب دنیا میں وقت افطارکا اظہار ہوتا ہے۔ چٹانی پہاڑوں اور پھیلے صحراوں کے بیچوں بیچ دور و نزدیک بکھرے عرب قبیلوں کے لیے اعلان افطار کی یہ سہولت پچھلی کئی صدیوں سے چلی آرہی ہے اور آج ڈیجیٹل اور الیکٹرانکس کی بے پناہ ترقی کے باوجود توپ و تفنگ سے لیس یہ عرب روائت جاری و ساری ہے۔ مورخین اسے رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں کے آنگن میں اترنے والی شادمانی کے اظہار کے ساتھ ساتھ ان کے اجتماعی رعب اور دبدبے کی علامت بھی قرار دیتے ہیں عرب تمدن اور ثقافت میں اہم درجہ پا جانے والی یہ روائت جدید سہولتوں کے فراہم ہو جانے کے بعد اگرچہ اپنے ابتدائی برسوں کے مقاصد پورے تو نہیں کرتی لیکن ایک یادگار علامت کے طور آج بھی مکہ کی پہاڑیوں سے لیکر خلیجی ممالک اور افریقی سرحدوں تک موجود ہے۔ جدید مکہ میں مدفیہ کی پہاڑی پر نصب کی گئی

توپ مکہ کی قدیم روائت اور ترقی کا حسین امتزاج ہے مسجد حرام کے جلو میں مکہ کی رمضان توپ جبل مدفیہ پر: بشکریہ عکاظ سعودی ادارہ برائے سفارتی مطالعہ جات میں عرب کی جدید تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد قوئدی کا کہنا ہے پرانے وقتوں میں توپ کے گولے فائر کرنے کا طریقہ بوقت افطار اس لیے رائج کیا گیا کہ تب کلائیوں پرگھڑیاں اور گھروں میں گھڑیال تھے نہ ہی آواز بڑھانے والے جدید آلات میسر تھے۔ سحر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھنے والوں نمازوں کے لیے بلانے کی خاطرمکہ کے موذن چار میناروں سے اذان بلند کرتے ، چاروں میناروں سے اذان کی آواز چاروں اطراف میں پھیلتی۔’ پروفیسر قوئدی اپنی کتاب ”مکہ میں عثمانی دور حکومت” میں لکھتے ہیں کہ مکہ میں توپ کے گولے سے افطاری کا وقت بتا نے کی روائت دورعثمانی میں شروع ہوئی اور ایک اونچی پہاڑی سے توپ کا گولہ فائر کیا جاتا تھا تا کہ آواز دور تک جائے مکہ شہر کے بڑے حصے تک یہ آواز پہنچ جاتی تھی. پروفیسر قوئدی کا کہنا ہے کہ سعودیہ میں افطاری کے وقت توپ کا گولہ فائر کرنے کی روائت آج بھی جاری ہے، تاہم آج اسے جاری رکھنے کی وجہ محض ایک روائت کا احترام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ توپ کا رمضان میں یہ استعمال عثمانی دور سے پہلے مملوک دور سے شروع ہوئی ،جبکہ قوئدی کے مطابق اگر یہ دور عثمانی سے پہلے شروع ہوتی تو اس پہلے دور کے اختتام تک جاری رہنی تھی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں