57

سارا ملبہ پنجابیوں پر کیوں؟

تحریر: صابر بخاری

ایف ایس سی کرنے کے بعدجب انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ لینے کیلئے کراچی پہنچا توانٹری ٹیسٹ والے دن گیٹ پر موجود کچھ لڑکوں نے ہمارا تعارف پوچھا!پنجاب کا بتایاتوانہوں نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا ۔کچھ لڑکے ٹیسٹ سنٹر، سیٹ تک چھوڑ کر آئے ۔ہم حیران ہوئے کہ یہ کون لوگ ہیں اور اتنی مہربانیاں کیوں!

ٹیسٹ سے فارغ ہوئے تو جاننے والے کچھ سینئرز بھی مل گئے ،پوچھا یہ لوگ کون ہیں جو پنجاب سے آنے والوں کا اس قدرخیال رکھ رہے ہیں ۔تب یہ راز کھلا کہ یہ “پنجابی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن “کے لوگ ہیں ۔یہ اسی یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں ۔ہر سال پنجاب سے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کا خیال کرتے ہیں ۔یہ طلبہ پورا سال ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔اس وقت کراچی میں ایم کیو ایم کا طوطی بول رہاتھا اور ان کے طلبہ کی جماعت کا تعلیمی اداروں میں یک گونہ قبضہ تھا ،یہ لوگ نئے آنے والے طلبہ خصوصاً پنجابی طلبہ کو تنگ کرتے اور بعض اوقات مار پیٹ بھی کرتے تھے ۔ پنجاب کے لوگوں سے اس قدر نفرت کا سن کر بہت افسوس ہوا ۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ،میری حیرانی میں اضافہ ہوتا گیا کہ آخر تمام صوبوں کے لوگ پنجابیوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ کہنے کو تو جنوبی پنجاب کے لوگ جن کی زیادہ آبادی سرائیکی زبان بولنے والوں پر مشتمل ہے،کو بھی پنجابی کہا جاتا ہے مگر وہ خود کو پنجابی کہلوانا پسند نہیں کرتے ،پنجاب میںرہنے کی وجہ سے سرائیکیوں کو بھی بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،

اور پنجابی بھائیوں کے ساتھ سرائیکی بھی بڑی تعداد میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں بھی پنجابیوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھی جاتی اور انہیں وسائل پر ڈاکہ مارنے والے اور غاصب سمجھا جاتا ہے ۔باقی صوبوں کے لوگ بھی پنجابیوں کے بارے میں متشدد رویہ رکھتے ہیں ۔پنجابی زبان بولنے والے زیادہ تر وسطی پنجاب میں آبادہیں ۔ان علاقوں میں آباد پنجابی ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ اورخوشحال ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر پنجابیوں سے نفرت کی وجہ کیا ہے ؟سب سے بڑی وجہ جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے سربراہان میں سے زیادہ ترکا تعلق پنجاب سے رہا ہے ۔عسکری شعبوں اور بیوروکریسی کے میدان میں بھی پنجابی چھائے ہوئے ہیں ۔جنوبی پنجاب کے لوگوںکو تو یہ شکایت ہے کہ ان کا سارا بجٹ اپر پنجاب پر لگایا جا رہا ہے جبکہ یہ خطہ برسوں سے پسماندگی کا شکار چلا آ رہا ہے ۔جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں اعلیٰ عہدوں پر پنجابی افسرشاہی کی بھرمار ہے ۔جس علاقے میں چلے جائیں بڑی سیٹ پر کوئی پنجابی افسر ہی تعینات نظر آئے گا ،یہی وجہ ہے کہ پنجابیوں کے بارے میں باقی صوبے تعصب کا شکار ہیں۔اور ان علاقے کے لوگوں میں احساس محرومی بڑھ جاتا ہے ۔چونکہ تعلیمی مواقع برابر نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگ مقابلے کے امتحان میں اپر پنجاب

کے لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔بچپن سے ہمیں یہ بات ذہن نشین کرائی گئی کہ لاہور کے لوگ اس قدر بے مروت ہوتے ہیں کہ ان سے راستہ بھی پوچھو تو وہ غلط سمت روانہ کر دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ یہ بھی زبان زد عام تھا کہ لاہور کے لوگ کسی کے نہیں ہوتے ۔لاہور میں مقیم ہونے اور پنجابی لوگوں سے میل ملاپ کے بعد ،انکے بارے میں کی جانے والی اکثر باتیں بوگس اور بے بنیاد ہی ثابت ہوئیں ۔راستہ پوچھنے کے حوالے سے یاد آیا کہ ہم نے ایران میں ایک شخص سے میٹر و سٹیشن کا راستہ پوچھا تو وہ ہمیں ساتھ لیکر سٹیشن پہنچا ،چونکہ وہ میٹرو ٹرین میں انجینئر تھا ،ہمیں رعایتی نرخوں میں ٹکٹ بھی لیکر دیا حالانکہ ایرانیوں کے رویوں کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں ۔اسی طرح پنجابیوں کے بارے میں بھی کافی باتیں حقائق کے منافی ہیں ۔حقائق یہ ہیں کہ جنوبی پنجاب اور باقی صوبوں میں نفرت کا بیج ہمارے پنجابی حکمرانوں نے بویا ہے ۔ اب پنجابیوں نے تو حکمرانوں کو نہیں کہا کہ باقی صوبوں اور جنوبی پنجاب کو چھوڑ کر سارا پیسہ لاہور میں خرچ کرو ۔اپر پنجاب میں خوشحالی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں تقریباً ہر گھر سے کم از کم ایک فرد بیرون ملک مقیم ہے ۔وہاں کن حالات میں وہ محنت مزدوری کرتے اور پائی پائی اکٹھاکرتے ہیں

یہ و ہی جانتے ہیں مگر انکی محنت کا پھل یہاں انکی فیملی کو ملتا ہے کہ انکو اچھا رہن سہن اور کھانا پینا نصیب ہوجاتا ہے اور انکی محنت سے یہ علاقہ خوشحال نظر آتا ہے ۔یہاں کے منتخب نمائندے بھی اپنے لوگوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں جبکہ یہ عمل دوسرے صوبوں اور جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں میں ناپید ہے ۔اسکے باوجود اپر پنجاب کے یہ علاقے بنیادی حقوق سے محروم ہیں ۔صحت ،تعلیم ،انفراسٹرکچر اور بیوروکریسی کی ڈھٹائی کا سامنا ان علاقوں کے لوگوں کو بھی ہے ۔سسٹم کو یہ بھی کوستے ہیں بلکہ باقی صوبوں کی نسبت زیادہ شاکی ہیں ۔جنوبی پنجاب اور باقی صوبوں کے مسائل اور انکی محرومیوں پر سب سے زیادہ پنجابی بھائی افسوس کا اظہار کرتے اور ان کیلئے آوازبھی بلند کرتے ہیں۔مگر حکمرانوں نے کب کسی کی سنی ہے لیکن ساراملبہ پنجابی بھائیوں پر ڈال دیا جاتا ہے ۔میں برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں مگر آج تک کسی پنجابی کی زبان سے یہ نہیں سنا کہ جنوبی پنجاب صوبہ نہیں بننا چاہیے ،بلکہ اکثریت نئے صوبے کی حامی ہے۔لاہور میں رہتے ہوئے یا اپر پنجاب گھومتے ہوئے کبھی بھی اجنبیت کا حساس نہیں ہو،اور نہ کبھی اس شہر یا اس خطہ کے لوگوں نے کبھی اجنبیت کا احساس ہونے دیا۔اپر پنجاب پورا گھوم لیا،

یہاں کے لوگ بھی اتنے میٹھے ہیں جتنے جنوبی پنجاب کے یا سرائیکی زبان بولنے والے اوردوسرے خطہ کے لوگ ۔یہاں کے لوگ اپنی دھن میں مست رہنے کے قائل اور طبعاً خوش مزاج ہیں ۔اپنی اسی طبیعت کی بدولت اس خطہ میں جو بھی حکمران قابض ہوا ،یہ ان کے ساتھ ہو لیے ۔میں یہی کہوں گا کہ پنجابی حکمرانوں اور بیوروکریسی نے جنوبی پنجاب اور دوسرے صوبوں کاجتنا استحصال کیا اتنا ہی خود اپنے پنجابی بھائیوںکا بھی حق مارا ہے۔ ہمیں پنجابی بھائیوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ مشکل کی ہر گھڑی میں قوم کی آواز بن جاتے ہیں۔آو پنجابی بھائیوں کو گلے لگائیں اور ان پر الزام نہ دیں ،نفرت نہ دیں بلکہ پیار کا تحفہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں