68

شہر ملتان: گرد، گرما، گدا اور گورستان قسط دوم

تحریر: محمد لقمان

حضرت بہاوالدین زکریا کے مزار تک جانے کے لئے ایک قدیم ڈیوڑھی سے گذرنا پڑتا ہے۔۔جہاں جوتے جمع کرانے کے لئے ایک الگ جگہ مختص ہے۔ ڈیوڑھی کے فوراً بعد صحن آجاتا ہے۔ صحن میں سیدھے جائیں تو برآمدے سے ہوتے ہوئے آپ مزار تک پہنچ جاتے ہیں۔مزار کا فن تعمیر دو سطحی ہے۔ مزار کا نچلا حصہ چوکور ہے۔ جب کہ اوپر کی عمارت آٹھ کونوں والی ہے۔ سب سے اوپر گول گنبد ہے۔ اگر صحن سے دائیں طرف جائیں تو مسجد آجاتی ہے۔ تیرھویں صدی کے بزرگ کے مزار پر پاکستان بھر سے لوگ آتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں ۔ مزار سے باہر احاطے میں آئیں تو وہاں ایک کنواں نظر آتا ہے۔ جس میں روایات کے مطابق قرآن پاک دفن ہے۔ کنویں کو ایک جالی سے ڈھانپا گیا ہے۔ لوگ اس کنویں میں نذرانے کے طور پر روپیہ پیسہ پھینکتے ہیں اور مرادیں مانگتے ہیں۔ حضرت بہاوالدین ذکریا کے مزار سے باہر آئیں تو عرب فاتح محمد بن قاسم کے نام سے موسوم سے پارک ہے۔ جس کو ابن قاسم پارک کہا جاتا ہے۔ پارک کی دوسری طرف جائیں تو حضرت شاہ رکن عالم کا مزار واقع ہے جو کہ اپنے خاص فن تعمیر کی وجہ سے آغا خان ایوارڈ جیت چکا ہے۔ صوفیائے کرام کے مزارات سے نکلے تو پیٹ میں جیسے چوہے دوڑ رہے تھے۔ ابن قاسم پارک کے ساتھ ہوٹل سے دہی بھلے کھائے مگر ان میں لاہور جیسی بات نظر نہیں آئی۔

اگر بھلوں میں ہلدی کی آمیزش ہو تو بھلے سے کوئی پنجابی کیوں کر کھائے گا۔ گاڑی میں بیٹھ کر نیچے اترے تو اپنے ساتھ لائے کھانے کا خیال بھی آگیا۔ ملتان کی میٹرو بس کے فورٹ قاسم اسٹیشن کے ساتھ واقع سڑک چھاپ ہوٹل سے روٹیاں لیں اور گھر پر پکائے ہوئے چکن کے ساتھ کھائیں۔ بہت زیادہ بھوک لگی ہو تو ہر چیز مزے کی لگتی ہے۔ کھانا کھانے کے دوران ہوٹل کے مالک سے ملتان میٹرو بس کے بارے میں خوب بات ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں