70

شہر ملتان: گرد، گرما، گدا اور گورستان

تحریر: محمد لقمان

گذشتہ دس برسوں ميں پتہ نہيں کتني مرتبہ اپنے بچوں سے ملتان لے جانے کا وعدہ کيا ہوگا۔ مگر ايک سياستدان اور صحافي کے وعدے ايک جيسے ہي ہوتے ہيں۔ وعدہ پورا ہونے کا امکان کبھی بھي دس في صد سے زيادہ نہيں رہا۔ مگر اس بار ملتان لے جانے کا وعدہ بالآخر پورا ہو ہي گيا۔ 19 اپریل کو وہاڑی سے ہوتے ہوئے ملتان روانہ ہوئے تو گرمی اپنی آمد کا پتہ دے رہی تھی۔ راستے میں گندم کی کہیں کٹائی جاری تھی تو کہیں بالکل تیار گندم کھیتوں میں موجود تھی۔ لاہور کے مقابلے میں لگ یہی رہا تھا کہ شاید جون کا مہینہ آچکا ہے۔ ملتان میں داخل ہوئے تو ایک عجب گرم موسم تھا۔ مجھے اور میرے اہل خانہ کو احساس ہوگیا تھا کہ یہ ملتان آنے کا موسم نہیں تھا۔ وہاڑی روڈ سے ملتان میں داخل ہوں تو داخلی راستوں پر وہی بدحالی نظر آتی ہے جو کہ آج سے دو تین دہائیاں پہلے تھی۔ مجھے 1994 کا وہ دور یاد آگیا جب مجھے عارضی طور پر سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کا اسٹیشن مینجر مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت موسم گرما میں ہی وارد ہوا تھا۔ ٹرین کے ذریعے جب میں لاہور سے ملتان پہنچا تو اسٹیشن پر مجھے مقبول احمد لینے آئے تھے۔ ملتان شہر تو ان دنوں بھی خوب تپ رہا تھا۔ چوبیس سال بعد اس امید سے ملتان میں اپنے خاندان کے ساتھ آیا تھا کہ شاید کوئی بہتری ہو چکی ہوگی۔ مگر صورت حال ویسے ہی تھی۔ جنرل بس اسٹینڈ کے قریب سے گذرے تو ایسے لگا کہ لاہور میں ہونے والی ترقی کا عشر عشیر بھی جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے اور پاکستان کے پانچویں بڑے شہر میں نہیں پہنچا۔ طے یہ ہوا کہ پہلے ہم حضرت بہاوالدین زکریا ملتانی اور شاہ رکن عالم کے مزارات پر جائیں گے اور قاسم باغ بھی جائیں گے۔ حضرت بہاوالدین زکریا کے مزار پر پہنچے تو دھوپ نے عجب حال کردیا۔ میرا بیٹے اور بیٹی کا ملتان دیکھنے کا اشتیاق سو فی صد سے کم ہو کر بیس فی صد تک آ چکا تھا۔ اب وہ چاہتے تھے کہ کسی طور مزار کی عمارت میں داخل ہوجائیں تاکہ گرمی کی شدت سے نجات ملے۔ مزار کے احاطہ شروع ہونے سے پہلے ہی سیکیورٹی اہلکار زائرین کی چیکنگ کے بعد اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ مزار کے اندر داخل ہوئے تو داتا دربار کے حساب سے اتنے بہتر نہیں تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں