37

میں عید مناؤں کس کے لیے: آئے روز نیب عدالتوں میں پیشی نے نواز شریف کو شاعر و گلوکار بنا دیا، یہ خبر ملاحظہ کیجئے

اسلام آباد (انر پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا ہےکہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہوں اور فیصلہ کرلیا ان ہتھکنڈوں کے سامنے نہیں جھکوں گا۔اسلام آباد میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ ’میں نے صرف

اور صرف پاکستان کے لیے کام کیا تھا، اس بات کی خوشی ہے کہ ہم دن رات پاکستان کی خدمت کررہے تھے، 2018 کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے کتنا مختلف ہے‘۔ زرداری ڈرتے تھے اس لیے دہشت گردی کے خلاف کام نہیں کیا، سابق وزیراعظم۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ معاملات اور مسائل کو ٹھیک کرنا ہے، زرداری صاحب نے دہشت گردی کے خلاف کام کیوں نہیں کیا؟ زرداری صاحب ڈرتے تھے اس لیے دہشت گردی کے خلاف کام نہیں کیا، 2013 میں لوگ ڈرے ہوئے ہوتے تھے، دہشت گردی کے اسباب کیا تھے،کیسے دہشت گردی نے پاکستان میں قدم جمائے، اس کے خلاف جنگ سے قبل ہم نے کراچی آپریشن کا فیصلہ کیا، ستمبر 2013 میں کراچی کے بارے میں فیصلہ کیا اور میں خودکراچی گیا‘۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا ’ عزم کرلیا تھا کہ کراچی کی حالت بہتر کریں گے، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو 10 سال ہونے کو ہیں، پوچھتا ہوں پیپلزپارٹی کی حکومت نے خود کراچی آپریشن کا فیصلہ کیوں نہیں کیا‘۔سندھ والوں سے کہتا ہوں کہ پنجاب کے ساتھ موازنہ کرلیں: نوازشریف۔(ن) لیگ کے قائد نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آپ قوم کو دھوکا دے رہے ہیں،

آپ کہہ رہے تھے نیاپاکستان بنائیں گے، کیا نیا پاکستان جھوٹ اور منافقت سے بنتا ہے، سندھ والوں سے کہتا ہوں کہ پنجاب کے ساتھ موازنہ کرلیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’زرداری صاحب آپ پر بھی ملک کو اندھیرے میں دھکیلنے کا الزام ہے، کیا سرخاب کے پرہمیں ہی لگے ہوئے ہیں کہ مسلم لیگ آئے گی اوراندھیرے ختم کرے گی‘۔نوازشریف نے کہا کہ ’ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہوں، فیصلہ کرلیا ان ہتھکنڈوں کے سامنے نہیں جھکوں گا، اگر آپ میرا ساتھ دوگے تو لازماً یہ جنگ جیتیں گے، اگر ہم پیچھے ہٹے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی، 70 سالہ تاریخ کو نیا رخ دینے کا وقت آگیا ہے، ہمارے اگلے 70 سال پچھلے جیسے نہیں ہونے چاہئیں‘۔اب جو لہر چلی ہے وہ منزل تک پہنچے گی: قائد مسلم لیگ (ن)۔ان کا کہنا تھا کہ ’بہت پر امید ہوں، عوام دل و جان کے ساتھ ساتھ دیں گے، ہمیں اب پچھے نہیں ہٹنا چاہیے، عوام آگے بڑھنے کے لیےتیار ہیں، اب وقت وہ نہیں رہا جو ہوا کرتا تھا اب جو لہر چلی ہے وہ منزل تک پہنچے گی‘۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’یقیناً مشکلات میں

ہوں، اب فیصلے کا وقت آگیا ہے، تھوڑی بہت عزت والا بھی ذلت کی زندگی نہیں گزار سکتا، اب اس سے زیادہ کیا ہوگا، ممکن ہے ایسا کوئی فیصلہ سنادیں اور مجھے سزا سنادیں، لیکن میں گھبراتا نہیں‘۔جو کچھ خیبرپختونخوا میں کیا دنیا کو پتا لگ گیا: سابق وزیراعظم۔اس سے قبل احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ ’کل جلسہ لاہورکا، مجمع پشاور کا، ایجنڈا کسی اور کا تھا، یہ ہے عمران خان کی اصولی سیاست اور اس کی منہ بولتی تصویر، ہم ہولو نعرے پچھلے کئی سالوں سے سن رہے ہیں لیکن جب واسطہ پڑا تو پتا چلا، جو کچھ خیبرپختونخوا میں کیا دنیا کو پتا لگ گیا، اس کےمقابلے میں جو مرکز اور پنجاب میں ہوا کوئی مقابلہ نہیں‘۔انہوں نےکہا کہ ’آج پنجاب دیکھیں، پھر سندھ، کے پی کے اور بلوچستان دیکھیں، لاہور دیکھیں اور دیگر شہر دیکھیں، دور دور تک کوئی مقابلہ اور موازانہ نظر نہیں آتا، فرق صاف ظاہر ہے، (ن) لیگ جب بھی آئی ہمیشہ ترقی کے ایجنڈے پر عمل کیا، آج ملک میں انفرا اسٹرکچر بن رہا ہے، اسلام آباد میں نیا ائیرپورٹ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے، میں اس کا افتتاح نہیں کرسکا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس میں ہماری خدمات ہیں، ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے‘۔

ملک میں کوئی کام نہیں کرنے دیتا، ٹانگیں کھینچتے رہے: نوازشریف۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ایجنڈے کو دس بیس سال مل جائیں تو ملک کی تصویر بدل سکتی ہے، ایک نیا پاکستان بن جاتا لیکن یہاں کام کرنے کون دیتا ہے، ٹانگیں کھینچنے والے کھینچتے رہے، کبھی کوئی صدر، کبھی فوجی ڈکٹیٹر‘۔نوازشریف نے کہا کہ ’یہ مصنوعی فیصلہ ہورہا ہے، اس پر عملدرآمد ممکن ہی نہیں، جو اس طرح کے فیصلے دے رہے ہیں وہ پچھتائیں گے کیونکہ یہ پاکستان کےمفاد میں نہیں ہے، 70 سالوں میں یہی کچھ ملک میں دیکھا، کسی ہمسایہ ملک میں اس طرح کے مناظر نہیں دیکھے، بنگلا دیش میں بھی یہ مناظر نظر نہیں آتے، ہماری کہانی بہت دکھی افسوسناک ہے، دعا ہے اللہ ہمارا مستقبل اچھا کرے‘۔مفتاح اسماعیل کے بجٹ پیش کیے جانے سے متعلق سوال پر (ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ججوں نے خواجہ آصف کو بھاری دل سے نااہل کیا: قائد (ن) لیگ۔احتساب عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ مجھے اقامے پر ناہل کیا گیا اور ججوں نے خواجہ آصف کو بھاری دل سےنااہل کیا، مجھے خوشی ہے میرے دل پر کوئی بوجھ نہیں۔ایک سوال کے جواب میں نوازشریف کا کہنا تھا کہ بھارت اور چین آپس میں دوستی کر رہے ہیں، افسوس ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں