29

دنیا کے وہ دو بڑے ممالک جہاں لڑکیوں کی تعدا دلڑکوں سے بہت زیادہ بڑھ چکی ہے

لاہور (انر پاکستان آن لائن) چین اور بھارت نئے مسئلے کا شکار بننے جارہے ہیں، دونوں ملکوں میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کا تناسب کئی گنا بڑھ گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق حالیہ تحقیق کے مطابق چین کی ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی میں خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد تقریباً ساڑھے تین کروڑ

تک بڑھ گئی ہے جو ملائیشیا کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔اسی طرح بھارت میں بھی خواتین اور مردوں کی آبادی کا فرق تین کروڑ ستر لاکھ تک پہنچ گیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس سےقبل 2012 میں آبادی سے متعلق کانفرنس کے موقعے پر جاری کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جنس کے انتخاب کے نتیجے میں خاص طور پر اِن ملکوں میں ہونے والی مردم شماری میں لڑکوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہورہابنگلہ دیش، افغانستان اور مشرقی یورپ کے ممالک جن میں البانیا، آرمینیا، آزربائیجان، جارجیا اور مانٹی نیگرو شامل ہیں، جنس منتخب کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔یہ بات اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق فند (UNPF) کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک تازہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔یہ رپورٹ آبادی کی کانفرنس کے موقعے پر جاری کی گئی ہے اور جنس کے انتخاب کے نتیجے میں اِن ملکوں میں ہونے والی مردم شماری میں لڑکوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے۔ الٹرا ساؤنڈ تیکنالوجی اور بچوں کی تعداد کو محدود کرنے کی حکومت کی پالیسیوں کے سبب مقامی ثقافت میں اس کا رجحان بڑھ گیا ہے۔سنہ 2010 میں تحقیق کرنے والوں کے اندازے کے مطابق زیادہ تر چین اور بھارت میں عورتوں کی تعداد 11کروڑ 70لاکھ کم تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ 2030ء تک اِن دو ملکوں میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 50 فی صد زیادہ ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں