27

سوشل میڈیا پر پابندی: اہم ترین اسلامی ملک سے بڑی خبر آ گئی

تہران (انر پاکستان آن لائن) ایران کی وزارت تعلیم نے غیر ملکی سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا سکولوں میں استعمال روک دیا۔اصلاح پسندوں کی ہم خیال ایلینا نیوز ایجنسی کے مطابق اس امر کا فیصلہ ایرانی وزارت تعلیم نے کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق تمام ایرانی سکولز صرف ڈومیسٹک سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا استعمال کریں گے۔

یاد رہے کہ ایران میں سب سے زیادہ ٹیلیگرام کا استعمال ہے۔ ٹیلیگرام کا دعوی ہے کہ ایران میں اس کے چالیس ملین صارف موجود ہیں۔ کمپنیاں بھی اس سروس کا بہت زیادہ استعمال کرتی ہیں۔چند ماہ قبل ایران میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے اور حکومت نے فوری طور سوشل میڈیا کو نشانہ بنایا تھا۔ ٹیلی کمیونی کیشن وزیر جاوید آزری نے یہ تفصیلات جاری کی ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے یہ بات کہی۔ایک تجزیے کے مطابق عصر حاضر میں سوشل میڈیا کی اہمیت اور اس کی افادیت و مقبولیت سے ہرگز انکا نہیں کیا جاسکتا۔آج کے اس دور میں بچے بڑے مرد عورت ہر عمر کے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں ساتھ ہی دینی طبقہ بھی پیش پیش ہے کہ جس میں عالم دین سے لیکر مفتی وشیخ الحدیث بھی تبلیغ دین و دیگر مقاصد کے لئے استعمال کرر ہے ہیں ۔کروڑوں کی تعداد میں سوشل میڈیا کا استعمال کرنا اس کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ،لیکن بدقسمتی سے اس بھیڑ میں ایسے شرپسند اور آزار خیال لوگ گھس آئے ہیں جو دین اسلام کا انکار اور نعوذباللہ آپﷺ کی شان میں مسلسل گستاخی کر رہے ہیں ان گستاخوں کی تعداد کثیر ہے جو پوری دینا میں پھیل اور پھول رہے ہیں ۔پاکستان میں بھی ان بدبخت ملحدوں کی تعداد پائی جاتی ہے جنہوں نے اپنا ایمان چند ٹکوں کے عوض بیچ ڈالا اور اب غیروں کے اشاروں پرناچ رہے ہیں ۔یہ وہی لوگ ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔

ان سے سوال کیا جائے کہ وہ اس قسم کی حرکات کیوں کرتے ہیں ؟ تو اپنی آزادیِ اظہار رائے کی چادر لپیٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ کیسی آزادی ِ اظہار ہے کہ جس سے کسی مذہب پر وار کیا جائے؟ یہ کیسی آزادی ہے کہ جس سے انتشار پھیل رہا ہے؟ ضرور اس میں شیطانیت پنپ رہی ہے ہمیں اس حوالے سے سوچنا ہوگا۔ایسے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تاریخی فیصلہ لیا ،اس قسم کے فیصلے بہت پہلے ہی لینے چاہئے تھے۔ توحین رسالت ﷺ اللہ پاک جسٹس شوکت صدیقی کی دراز رعمری کرے ، آپ نے جس طرح معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے سنجید گی کا مظاہرہ کیا ہے یقینی طور پراپ اللہ کے سامنے سرخرو ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سینٹ میں بھی ارکان کا اس مسئلے پر متفق ویک زبان ہونا قابل ستائش ہے ۔دوسری جانب وزیر داخلہ چودھری نثار کی سربراہی میں متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ اجلاس بلانا بھی لائق تحسین ہے ۔وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ ہمیں توہین رسالت جیسے مواد کو ہٹانے کے لئے سوشل میڈیا پر پابندی لگانا پڑ ی تو ہم اس سے گریز بھی نہیں کریں گے-
دراصل سوشل میڈیا پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہم جانتے ہیں کہ آپ نے جذبات میں آکر یہ بیان دیا ،یہ گستاخ لوگ معاشرے میں نجاست کی طرح ہیں ، آپ کے جسم پر اگر کہیں نجاست لگی ہو تو آپ اسے دھوتے ہیں نہ کہ آپ جسم کا وہ حصہ اپنے وجود سے کاٹ کر ہٹا دیتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی ان بے ایمانوں کا تعاقب کرنا ہوگا۔ ہماری سائبر کرائم ونگ اتنی مضبوط ہے کہ جب ہم سلمان حیدر اور دیگر گستاخوں کو انکی آپی ایڈریس بار بار تبدیل کرنے پر بھی پکڑ سکتے ہیں تو باقیوں کو کیوں نہیں؟ سوشل میڈیا کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات اگر جاری ہوئے تو یہ بات بڑی احمقانہ ہوگی ۔ کیوں کہ آپ کے اس عمل سے وہ مخصوص طبقہ ِ ناسور جو توہین رسالت کے مواد کو فروغ دیتا ہے وہ سوشل میڈیا بند ہونے پر متبادل ذرائع ڈھونڈے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا ہی رہے گا جب تک ہم ان ناسورں کو گرفتا ر کر کے انہیں قانون کے مطابق سزا نہیں دیتے یہ معمہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ جس طرح دہشت گردی کوفروغ دینے کےلئے شرپسندوں نے کتاب کا سہارا لیا اور جہادی لیٹریچر تیار کئے تو ہم نے ان مخصوص کتاب و کتابچے پر پابندی لگائی نہ کہ پورے پاکستان میں کتابوں پر پابندی لگی اسی طرح ہمیں سوشل میڈیا پر ایسے پیج،ویب سائٹ،پروفائل کا خاتمہ کرنا ہے اور ان لوگوں کو گرفتار کرنا ہے جو یہ گھناﺅنا عمل کر رہے ہیں ان کے لئے ہمارا سائبر کرائم بل اور سائبر اسپیشلسٹ موجود ہیں جس کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں دورس نتائج مل سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں