36

موجودہ حکومت نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر سکے گی یا نہیں؟ جاننے کے لیے یہ خبر پڑھیے

اسلام آباد (انر پاکستان آن لائن) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنی کابینہ و دوسرے رفقاء کی مشاورت کی روشنی میں آج اس امر کا حتمی فیصلہ کر لیں گے کہ نئے مالی سال 2018-19ء کا وفاقی بجٹ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت قومی اسمبلی آف پاکستان میں 27اپریل کو پیش کرے اور اسے

پارلیمنٹ سے منظور کرائے یا نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ 2جون 2018ء کو معرض وجود میں آنے والی نگران حکومت پیش کرے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یہ بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وفاقی بجٹ انکی حکومت صرف 4ماہ کا تیار کرا کر قومی اسمبلی سے اسکی منظوری حاصل کر لے اور یہی بجٹ نگران حکومت لیکر آگے چلے۔ نگران وزیراعظم قومی اسمبلی کے قائد ایوان شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اتفاق رائے سے آئین کے تحت کرنے کے پابند ہیں اور نگران حکومت سبکدوش ہونے والی آئینی حکومت کے اگلے ہی روز تشکیل پا جائیگی۔ صدر مملکت ممنون حسین نگران حکومت کے پہلے دن مقرر کئے گئے نگران وزیراعظم اور اُنکی نگران کابینہ کے اراکین سے حلف لیں گے جو تین ماہ کے اندر ملک میں آئین کے مطابق آزادانہ‘منصفانہ‘ غیرجانبدارانہ اور شفاف جنرل الیکشن کرا کر نومنتخب حکومت کو اقتدار سونپ کر ختم ہو جائیگی۔دوسری جانب مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہےکہ ملک کی معاشی ترقی کی رفتار سے مطمئن نہیں لہٰذا اسے اور زیادہ ہونا ہے جب کہ پاکستان کوسالانہ 10 فیصد اقتصادی ترقی کی رفتارسے آگے بڑھنا ہوگا۔اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں معاشی پالیسیز درست سمت ہیں، معاشی ترقی کی شرح 5 سال میں ساڑھے 4 فیصد سالانہ رہی تاہم معاشی ترقی کی رفتار سے مطمئن نہیں، اسے اور زیادہ ہونا ہے، پاکستان کوسالانہ 10 فیصد اقتصادی ترقی کی رفتارسے آگے بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال روپے کی قدر میں 10 فیصد تک کمی ہوئی، روپے کی بےقدری کے باوجود مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوا، روپے کی قدر میں کمی آزادانہ پالیسی کی وجہ سے ہوئی، روپے کی قدر میں کمی سے مارچ میں برآمدات 24 فیصد بڑھیں، آئندہ دو ماہ میں برآمدات 20 فیصد مزید بڑھیں گی۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سال میں صنعت، زراعت اور خدمات سمیت تمام شعبوں میں ترقی ہوئی، آج ملک میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی اضافی بنائی جارہی ہے، بجلی اور گیس موجود ہے، صنعتی ضرویات پوری کرسکتےہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں معیشت کی بہتری کےاقدامات کیےگئے، رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی 5.8 فیصد رہے گی، مہنگائی کی شرح کو4 فیصد سے نیچے رکھا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف دے رہے ہیں، ٹیکس میں متوسط طبقے کو ریلیف دیا جارہا ہے جب کہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے زمین نہیں خرید سکیں گے، نادرا کے ساتھ مل کر ٹیکس گزاروں کی تعداد بڑھائیں گے، ٹیکس چور غیر ملکی دورےکرتے پھرتے ہیں اور ٹیکس نہیں دیتے، نادرا 10 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا دے رہا ہےجو ٹیکس دینےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں