72

حیدرآباد سے بڑی خبر: ثمینہ سندھو قتل کیس میں اہم پیشرفت ،قاتل اپنے انجام کو پہنچ گئے

لاڑکانہ (ویب ڈیسک) صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے گلوکارہ ثمینہ سندھو کے قاتلوں کی گرفتاری کی تصدیق کردی۔گزشتہ روز سامنے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ لاڑکانہ کے قریب گوٹھ کنگا میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بعض تماشائیوں نے اچانک فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں رقاصہ

ثمینہ سندھو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی تھی۔تاہم مقامی ذرائع کے مطابق گلوکارہ ثمینہ سندھو ایک سندھی گیت گا رہی تھی، گیت سنتے سنتے تقریب میں موجود ایک شخص نے گن پوائنٹ پر گلوکارہ سے رقص کا مطالبہ کیا لیکن گلوکارہ نے رقص سےانکار کردیا جس پر اس شخص نے گلوکارہ پر 3 گولیاں برسا دیں اور اس کے نتیجے میں ثمینہ سندھو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی۔مقتولہ کے شوہر کا کہنا ہے کہ ثمینہ سندھو حاملہ تھی اور یہ دوہرا قتل ہے۔ڈی آئی جی لاڑکانہ کی گفتگوڈی آئی جی لاڑکانہ عبداللہ شیخ کے مطابق ثمینہ سندھو کے قتل میں ملوث شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جس کی شناخت طارق جتوئی کے نام سے ہوئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کا مقدمہ دفعہ 302 کے تحت کنگا تھانے میں درج کیا جاچکا ہے جب کہ گرفتار ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔قاتلوں کی گرفتاری کی تصدیقدوسری جانب وزیر داخلہ سندھ نے مقتولہ کے قاتلوں کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے۔سندھ اسمبلی کےباہر میڈیا سے گفتگو میں سہیل انور سیال نے کہا کہ مقتولہ کے شوہر کے بیان کے مطابق مقدمہ درج ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں گی۔واضح رہے کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے واقعے کا نوٹس لیا تھا اور صوبائی وزیر داخلہ کو ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں