72

سٹیفن ہاکنگ: اک روشن دماغ تھا نہ رہا

تحریر: صابر بخاری

”انسانوں کے علاوہ بھی کوئی نہ کوئی مخلوق کہیں نہ کہیں ضرور آباد ہے، مگر انسانوں کو کسی بھی اجنبی مخلوق سے رابطہ کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ درحقیقت ایسی مخلوق انسانوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایسی اجنبی مخلوق انسانوں سے زیادہ چالاک ہو اور یہ بھی عین ممکنات میں سے ہے کہ وہ مخلوق زمین پر آکر ہمارے وسائل پر قبضہ کر لے۔ اگر کوئی اجنبی مخلوق اس دنیا میں وارد ہوتی ہے تو اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ وہ انسانوں کے ساتھ ایسا سلوک کرے جو کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے وقت مقامی لوگوں کے ساتھ ہوا تھا۔ انسانوں کو ایسی اجنبی مخلوق سے رابطہ کے بجائے ان سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نئی آنے والی مخلوق ہم سے زیادہ ذہین اور تیز و طرارہو جو ہم پر حاوی ہو جائے اور شاید ایسی مخلوق کو ملنا ہم پسند بھی نہ کریں۔“
”مصنوعی ذہانت میں جو بے پایاں ترقی ہو رہی ہے یہ ترقی انسانی نسل کو ختم کر دے گی۔ ایک مرتبہ انسانوں نے مصنوعی ذہانت کو بنا لیا تو اس کے ارتقاءکا عمل خود جاری رہے گا اور انسان اپنے سست ارتقاءکی بدولت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔“
”ہم جانوروں کو تکلیف سے بچاتے ہیں، تو انسانوں کو کیوں نہیں۔ اس لیے میں خودکشی میں معاونت کا حامی ہوں۔ مگر یہ ضروری ہے کہ یہ سہولت ایسے افراد کیلئے ہو جو اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہوں اور ان پر کسی قسم کا کوئی دباو¿ نہ ہو۔ ایسے افراد کے رہنما کو کسی بھی قانونی کارروائی کے خوف سے مبرا ہو کر ان کی معاونت کرنی چاہیے۔“
”انسانیت کے اس صورت میں زندہ رہنے کے امکانات ہیں اگر وہ دیگر سیاروں پر آبادیاں قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اگرچہ ابھی زمین پر تباہی کے امکانات کم ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس بات کے امکانات سر اٹھانا شروع کر سکتے ہیں اور اگلے ہزار یا دس ہزار سالوں میں اس تباہی کے یقینی امکانات وجود میں آسکتے ہیں۔ اس وقت تک ہمیں خلاءاور دیگر ستاروں تک پھیل جانا چاہیے۔ اس طرح اگر زمین پر تباہی ہوتی بھی ہے تو اس سے انسانوں کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ مگر اگلے سو سالوں تک ہم خلاءمیں خود مختار نو آبادیاں قائم نہیں کر سکیں گے، اس لیے اس دوران ہمیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اور ہمیں اس سلسلے میں ہوشیار رہنا ہو گا۔“
”کوئی انسان کسی بلیک ہول میں گر جائے تو وہ اس میں سایہ بن کر رہنے لگے گا یا اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ وہ بلیک ہول کو عبور کر کے کسی اور کائنات میں جا نکلے گا۔ بلیک ہول اس وقت بنتے ہیں جب کوئی فلکی جسم اپنی ثقلی کشش کی وجہ سے اپنے آپکو تباہ کر لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ جسم کائنات میں ایک بلیک ہول کی مانند رہنے لگتا ہے۔ “
یہ چند مختصر نظریات اس عظیم برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کے ہیں جو14مارچ کوبا مقصد،باعزم اور انسانیت کی اصلاح سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد دنیا سے کوچ کر گیا۔ شدید موذی مرض موٹر نیورون میں مبتلا ہونے کے باوجود اس کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی اور اس نے اپنی مکمل جسمانی معذوری کیساتھ ایسے کارنامے سر انجام دیے کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔سٹیفن سائنس کی دنیا میں ایسے اعلیٰ اور قابل تقلید مقام پر فائز ہے جس سے آنے والے سائنسی محققین ہمیشہ رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے ۔وہ سائنس کی دنیا کی ایسی شخصیت تھی جس کے سامنے سپر پاورز کے سربراہان بھی با ادب کھڑے نظر آتے تھے۔ سٹیفن ہاکنگ جیسے لوگ ہی اس کرہ¿ ارض کا روشن چہرہ ہیں جس پر انسانیت فخر کرتی رہے گی۔وہ ایسا عجوبہ روزگار سائنس دان تھا جو اپنے دیدہ ور رخسار کو جنبش دے کر دنیا کو کائنات کے پوشیدہ رازوں سے آگاہی دیتا تھا کیونکہ وہ بولنے سے بھی معذور تھا اور محض کمپیوٹر کو دیے گئے اشاروں سے سائنسی گتھیاں سلجھاتا تھا ۔
ہاکنگ نے 8 جنوری 1942ءمیں آکسفورڈ برطانیہ میں آنکھ کھولی۔ اس کے والدین شمالی لندن میں مقیم تھے مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد لندن کا یہ علاقہ بمباری سے متاثر ہوا اور غیر محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔ اس لیے ہاکنگ کے والدین نے آکسفورڈ کو مسکن بنایا جو ایک محفوظ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ 1950ءمیں ہاکنگ کے والد نیشنل انسٹیٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ میں (division of parasctology) کے سربراہ بنے تو ہاکنگ اور اس کا خاندان البانز (Albans) ہرٹ فورڈ شائرمنتقل ہو گئے۔ ہاکنگ کا خاندان اس علاقہ کا ذہین ترین خاندان سمجھا جاتا تھا۔
ہاکنگ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز ہائی گیٹ لندن میںواقع بیرن ہاو¿س سکول سے کیا۔ آٹھ سال کی عمر میں ہاکنگ St. Albans ہائی سکول فار گرلز میں بھی کچھ ماہ زیر تعلیم رہااس کے علاوہ اس نے ریڈلٹ سکول سے بھی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ہاکنگ کو بچپن میں اچھے دوست مل گئے اور ان کی صحبت میں ہاکنگ بورڈ گیمز، آتش بازی، ہوائی جہازوں کے ماڈل تیار کرتا اور اس کے علاوہ وہ دوستوں کے ساتھ مذہبی معاملات پر بھی سیر حاصل بحث کرتا۔ 1958ءمیں اس نے اپنی ریاضی کی استاد ڈکرن کی مدد سے گھڑی کے ٹکڑوں سے کمپیوٹر سے مشابہ اور دوسرے پرزے بنائے۔ ہاکنگ اگرچہ سکول میں آئن سٹائن کے نام سے جانا جاتا تھا مگر وہ تعلیمی میدان میں زیادہ کامیاب نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ اس کا رجحان سائنس کے مضامین کی طرف ہونے لگا جس سے اس کی ٹیچر ڈکرن کافی متاثر ہوئی اور ہاکنگ نے یونیورسٹی میں ریاضی پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ہاکنگ کے والد کی خواہش تھی کہ وہ میڈیسن کے شعبہ میں جائے چونکہ ریاضی میں زیادہ ملازمت کے مواقع نہیں تھے۔ والد چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا یونیورسٹی کالج آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرے مگر اس وقت وہاں ریاضی کا مضمون پڑھنا ممکن نہیں تھا، جس کے بعد ہاکنگ نے فزکس اور کیمسٹری کے مضامین میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہاکنگ کے یونیورسٹی کالج آکسفورڈ کے فزکس کے استاد رابرٹ کے مطابق ہاکنگ پہلے ڈیڑھ سال تنہا اور اکتایا ہوا رہتا تھا مگر دوسرے اور تیسرے تعلیمی سال ہاکنگ میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ اب وہ مقبول، خوش دل بننے لگا تھا اور ساتھ ساتھ کلاسیکل موسیقی اور سائنس فکشن میں دلچسپی لینے لگا تھا۔ اس نے بی اے آنرز میں فرسٹ کلاس ڈگری حاصل کی۔1963ءمیںجب وہ گریجویشن کر رہا تھا تو اس میں نیورون کے مرض کی تشخیص ہوئی اور اس کے بعد ہاکنگ ڈپریشن کا شکار ہو گیا۔ اگرچہ ڈاکٹرز نے تعلیم جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ مگر جلد ہی ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ ہاکنگ مزید دو سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر ہاکنگ نے اس روح فرسا بہادری سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ 1964ءمیں اس نے ایک لیکچر میں تحلیل نفسی کے موجد فرائڈ اور اس کے ایک طالب علم کے کام کو چیلنج کیا جس سے اس کی شہرت ہونے لگی اسی دوران 1966ءمیں اس نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔
سٹیفن اپنی بیماری کو معذوری بنائے بغیر جم کرکام کرتا رہا اور اس نے اپنے جسم کو اپنی قوت ارادی سے ایک ایک حصے کو جوڑ کر اتنا مضبوط کر لیا کہ اب وہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے لگا۔ اس نے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر کام شروع کر دیا۔ یہاں سے اسے بلیک ہولز کے متعلق جاننے اور اس پر کام کرنے کا تجسس ہوا۔ اس نے جلد ہی ڈاکٹروں کی اپنی موت کے بارے میںپیش گوئی کوغلط ثابت کر دیا۔ اگرچہ اس کا جسم مفلوج تھا۔ وہ نہ بول سکتا تھا اور نہ اس میں سننے کی صلاحیت باقی رہی تھی۔ اس کی کل زندگی وہیل چیئر ہی تھی۔ ہاکنگ 1979ءسے 2009ءتک کیمبرج یونیورسٹی میں اسی عہدے پر فائز رہا جس پر کبھی معروف سائنس دان نیوٹن فائز رہے تھے۔ وہ ایک جدید وہیل چیئر پر بیٹھ کر رخساروں کی جنبش سے لیکچر دیتا تو لوگ اس کی صلاحیتوں پرعش عش کر اُٹھتے۔ ہاکنگ کی وہیل چیئر کے ساتھ منسلک جدید کمپیوٹر کا کچھ حصہ ہاکنگ کے دائیں گال سے منسلک رہتا۔ ہاکنگ اپنے گال کو حرکت دیتا تو کمپیوٹر پر آواز اور الفاظ ظاہر ہونے لگتے۔ وہ جو بھی سوچتا کمپیوٹر بولتا جاتا۔ اور دنیا اس عظیم سائنسدان کے کارناموں سے بہرہ مند ہوتی رہی۔
1988ءمیں اس نے اپنی شہرہ¿ آفاق کتاب ”وقت کی مختصر تاریخ“ لکھی جس نے اسے چار دانگ عالم میں ایک طبیعات کے نظریاتی ماہر سائنسدان کے طور پر مشہور کردیا۔اس کتاب میں اس نے فلسفہ زبان و مکاںکی سائنسی توجیہہ پیش کی کہ وقت کا نقطہ آغاز کیا تھا ،گزرتے وقت کو روکنا کیوں ناممکن ہے؟ مستقبل کا کوئی شخص ہمارے سامنے ابھی تک کیوں نہیں آیا؟ ہم حال ہی میں کیوں رہتے ہیں اور پھر ماضی کا حصہ کیوں بن جاتے ہیں؟ ان سب سوالوں سے ہاکنگ نے اپنی اس کتاب میں پردہ اُٹھایا ہے۔ 1970ءکی دہائی میں اس نے مقالوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا۔ جن میں آئن سٹائن کے نظریہ اضافت پر بحث کی۔ 1974ءمیں ہاکنگ نے اس بات کو غلط ثابت کر دیا کہ بلیک ہولز مکمل طور پر بلیک نہیں ہیں، وہ تابکاری خارج کرتے ہیں، اس نظریے کو اب ہاکنگ شعاع کا نام دیا گیا ہے۔ یہ شعاعیں بلیک ہول کے ثقلی میدان سے گزر کر پار ہو سکتی ہیں۔اسکی کاوشوں سے پہلی دفعہ کوانٹم نظریہ کو نظریہ اضافیت پر اہمیت حاصل ہوئی جوہاکنگ کا قابل قدر کام تھا۔
جب ہاکنگ کیمبرج میں گریجویشن کا طالبعلم تھا اس کا تعلق جین سے استوار ہو گیا۔ جین اس کی بہن کی دوست تھی اور ہاکنگ اسے اپنی بیماری کی تشخیص سے پہلے ملا تھا۔ اکتوبر 1964ءمیں دونوں کی منگنی ہو گئی جبکہ جولائی 1965ءمیں وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ 1967ءمیں بیٹے رابرٹ کی پیدائش ہوئی، بیٹی لوسے 1970ءمیں پیدا ہوئی جبکہ تیسرے بچے ٹموتھے کی پیدائش اپریل 1979ءمیں ہوئی۔ تاہم اب ہاکنگ اور جین کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہو چکے تھے چنانچہ1980ءمیں ہاکنگ اپنی نرس ایلین میسن کو پسند کرنے لگا اور دونوں میں تعلقات استوار ہو گئے جبکہ 1995ءمیں ہاکنگ نے پہلی بیوی جین کو طلاق دی اور نرس سے شادی کر لی۔ 1999ءمیں جین نے کتاب لکھی اور ہاکنگ سے شادی اور رشتے کے خاتمہ سے پردہ اٹھایا تو میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا مگر ہاکنگ نے کوئی ردِ عمل نہیں دیا، صرف یہی کہاکہ وہ اپنے بارے میں بائیوگرافیز کو نہیں پڑھتا۔ 2006ءمیں ہاکنگ اور میسن میں بھی چپکے سے طلاق ہوگئی۔ ہاکنگ اگرچہ ماہر طبیعات تھا لیکن اسے سیاست میں بھی دلچسپی تھی اور وہ طویل عرصہ تک لیبر پارٹی کاسپورٹر بھی رہا ۔
ہاکنگ کی بیٹی لوسی جو ایک صحافی اور ادب کے شعبے سے تعلق رکھتی ہیں، والد کے بارے میں کہتی ہیں، ”میرے خیال میں وہ ضدی اور قابلِ رشک حد تک باہمت انسان تھے، انہوں نے اپنی مکمل توجہ آگے بڑھنے کے مقصد پر خرچ کی“۔
نوجوان سائنس دانوں کو ہاکنگ نے نصیحت کی کہ ”وسیع اور پیچیدہ کائنات کے متعلق اپنی حیرت کے احساس کو جاری رکھیں، میرے خیال میں زندہ رہنے اور نظریاتی طبیعات کے متعلق تحقیق کا بہترین وقت ہے، کسی چیز کی دریافت کیلئے اس لمحے سے بڑھ کر کچھ بھی بہتر نہیں، جس کے متعلق اس سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔“
سائنس کی گتھیاں سلجھانے والے عظیم سائنس دان سے جب پیچیدہ ترین چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہاعورت۔
ہاکنگ اب ایک منٹ میں ایک لفظ لکھ پاتا تھا، یہ خدشہ بھی موجود تھا کہ اس کا دماغ ہمیشہ کیلئے جسم کی طرح خاموش ہو جائے گا، مگر 2011ءمیں پروفیسر لوکو نے ہاکنگ کے دماغ کو برین مشین سے سکین کر لیا۔ 14مارچ 2018ءکو اپنی 55سالہ طویل بیماری سے لڑتے ہوئے کائنات کے اسرارو رموز کو سمجھنے اور سمجھانے والا یہ جینئس 76سال کی عمر میں کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ”موت “ کا شکار ہوگیا ۔جس سے کسی کو مفسر نہیں اور ہر ذی روح نے اس کا ضائقہ چکھنا ہے ۔سٹیفن نظام شمسی ایک سیارے زمین کا باسی تھا اور بالآخر اسی کائنات کی وسعتوں میں گم ہوگیا ہے جسے وہ زندگی بھر کھنگالتا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں