29

بوگس مقدمے اوربے گناہ شہریوں پر تشدد، پنجاب پولیس کے شرمناک کرتوت بے نقاب ہو گئے

لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی دارالحکومت میں شہریوں کو بلاوجہ قید میں رکھنے ، تشدد اور بوگس مقدمات میں ملوث کرنے والے ایس ایچ اوز کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ پولیس کے ویجیلینس سیل کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ محکمہ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سمیت صوبہ بھر کے ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کو ایک حکم نامہ کے ذریعے انتباہ کیا ہے کہ شہریوں کو بلاوجہ تھانوں میں قید نہ رکھا جائے اور اس میں شہریوں پر بلاوجہ تشدد اور بوگس مقدمات کے اندراج کا سختی سے منع کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ شہریوں پر بلاوجہ تشدد اور بوگس مقدمات میں ملوث کرنے پر تھانوں کا اچانک معائنہ کیا جائے گا جس میں لاہور میں ویجیلینس سیل کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے جس میں ویجیلینس ٹیم اچانک تھانوں میں چھاپے مارے گی جس میں تفتیشی افسران کے کمروں اور حوالاتوں کا معائنہ کیا جائے گا ۔ بلاوجہ اور بغیر کسی گرفتاری کے تھانے میں پائے جانے والے شہری پر ایس ایچ اوز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ آئی جی پنجاب نے اپنے احکامات میں کہا ہے کہ تھانوں میں بلاوجہ شہریوں کو بٹھانا اور تشدد سختی سے منع ہے اور اس میں ملوث ایس ایچ اوز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی کے حکم پر سی سی پی او لاہور نے شہر بھر کے تھانوں میں بلاوجہ شہریوں کو بٹھانے اور تشدد سمیت بوگس مقدمات درج کرنے سے سختی سے منع کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے ایس ایچ اوز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں