46

پاکستان زندہ باد، تعصب مردہ باد

تحریر: نسیم خان نیازی

پاکستان میں فرقہ ورانہ، علاقائی اور لسانی تعصب اگرچہ کسی نہ کسی شکل میں ہروقت موجود رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں یہ مسئلہ ایک بار پھر شدت کے ساتھ سر اٹھا رہا ہے۔ خاص طور پر لسانی تفریق کی ایک نئی لہر سامنے آئی ہے اور پنجاب یونیورسٹی میں طلبا کے تصادم کے بعد فریقین اپنے اپنے محاذ پر مورچہ زن ہوکر مخالفین کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی کا واقعہ افسوسناک ہے مگر بغور جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد لسانی نہیں بلکہ یہ اقتدار، اختیار اور غلبے کی جنگ ہے۔ اسے لاقانونیت بھی کہہ سکتے ہیں اور ریاستی اداروں کی ناکامی بھی ۔ مگر یہ لسانی جھگڑا کیسے بنا؟ ہمیں اس سوچ کی بنیاد تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی کے ذہن میں اگر تعصب ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا۔
دراصل لاقانونیت ، فرائض سے غفلت اور میرٹ سے پہلو تہی ان تعصبات کی بنیاد ثابت ہورہے ہیں۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ معاشرے کے کسی طبقے ، لسانی گروہ یا علاقائی اکائی میں پایا جانے والا احساس محرومی کسی بھی وقت بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے مگر ہمارے حکمرانوں کو شائد اس بات کا ادراک نہیں ۔ مختلف تعصبات کے خاتمے کےلیے ضروری ہے کہ حکمران طبقہ عملی طور پر خود کو ہرقسم کے تعصب سے پاک ثابت کرے ۔ میرٹ اور قانون کی بالادستی یقینی بناکر حکمران تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلیں ، ہرایک کو اس کی صلاحیت کے مطابق حصہ اور عہدہ دیں تو تعصبات کی دوسری کئی صورتوں سے بھی چھٹکارا ممکن ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ نون لیگ کی وفاقی حکومت ایسا کرنے میں ناکام نظرآئی ہے۔ وفاقی کابینہ ہو یا سول سروس کے اہم عہدے۔ تمام تر عنایات ایک خاص علاقائی پٹی پر ہیں۔ اس روئیے کو آسان الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکمران خاندان کی نظر میں ملک کا تمام تر ٹیلنٹ صرف ایک خاص علاقے میں ہی ہے ۔ ان کی ”نظرکرم” سے محروم دوسرے علاقوں میں نہ تو کوئی ماہر معیشت ہے ، نہ کوئی پلاننگ کا ماہر ، دفاعی معاملات ہوں یا پارلیمانی سربراہی ، لااینڈ آرڈر ہو یا تجارت ، ایک خاص علاقے سے باہر کا کوئی آدمی ان شعبوں کا ماہر نہیں ہوسکتا۔ ملک کی قسمت اب صرف دو یا تین سو کلومیٹر طویل علاقائی پٹی کی دسترس میں ہے۔ بقول حسرت موہانی ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔
کامن سینس ، جسے اردو میں فہمِ عمومی کہتے ہیں ، کی بات ہے کہ جب حکمران طبقہ علاقائی تعصب سے باہر نکلنے کو تیار نہیں تو وہ عام لوگوں کو تعصبات کی دوسری صورتوں سے کیسے دور رکھ سکتا ہے۔ بااختیار اور برسراقتدار افراد ہی اپنے عمل سے مثال قائم کرتے ہیں ۔ حکمران جو مثالیں قائم کررہے ہیں، عام لوگ بھی اسی پر عمل پیرا ہوں گے۔
حکمران اگر اپنی سرشت سے باز نہیں آتے تو دیگر سیاسی جماعتوں کو اس عمل میں آگے آنا چاہیے ۔ کم ازکم پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، جے یو آئی اور متحدہ قومی موومنٹ جیسی جماعتیں خود کو کسی صوبے ، علاقے یا فرقے تک محدود نہ کریں ۔ تمام جماعتوں میں ہر لسانی اکائی ، ہر صوبے اور ہر فرقے کی نمائندگی موجود ہو تو یہ ملک کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ پاکستان جیسے تقسیم در تقسیم ہوتے معاشرے میں اتحاد کےلیے نون لیگ کے مخالفین ہی پہل کردیں ، شائد حزب اختلاف کو دیکھ کر حزب اقتدار بھی ویسا ہی رنگ پکڑ لے ۔ خربوزے والی مثال بہت پرانی ہوچکی ، اس لیے یہاں وہ مثال دینے سے احتراز کیا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں