110

سینٹ الیکشن: پی پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کی پلاننگ کیا تھی؟

تحریر: صابر بخاری

سینٹ انتخابات کا مرحلہ اختتام پذیر ہوچکا ہے اوربلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کے سر پر سینٹ کا تاج سج چکا ہے۔ وہ پہلے بلوچ رہنما ہیں جو چیئرمین سینٹ کے عہدے تک پہنچے ہیں۔ اس بار سینٹ کے انتخابات غیر معمولی توجہ کا مرکز بھی بنے رہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان انتخابات کے مستقبل کی سیاست میں دوررس اثرات مرتب ہونگے۔ حکمران جماعت کرپشن الزامات میں گھرے اپنے قائد کو ریلیف دینے کیلئے ان انتخابات پر بہت حد تک تکیہ کیے ہوئے تھی۔ دوسری طرف عمران خان اور آصف زرداری بھی کسی صورت حکمران ن لیگ کو سینٹ کی سربراہی دینے کیلئے تیار نہیں تھے۔ انتخابات تدبیر اور داو پیچ کا دوسرا نام ہے اور اس میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو پریشر برداشت کرلے اورنازک وقت میں اپنے پتے سوچ سمجھ کر کھیلے۔ سینٹ الیکشن میں کونسی پارٹی کیا سوچ رہی تھی اور وہ اس مقصد میں کس حد تک کامیاب رہی اس پر نظر دوڑائیں تو کچھ یوں حقائق سامنے آتے ہیں کہ حالیہ کچھ عرصہ سے آصف علی زرداری، عمران کا سیاسی ٹارگٹ نہیں رہے تھے بلکہ گزشتہ چند برس سے عمران کا بڑا ور اصل ٹارگٹ نواز شریف ہی تھے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ملکی سیاست میں پنجاب کا ہمیشہ سے ہی اہم کردار رہا ہے۔

میاں صاحب نے کچھ وقفوں کے ساتھ تین دہائیوں سے پنجاب کی سیاست پر اپنے حواریوں کے ذریعے قبضہ کررکھا تھا۔عمران خان نے اسی لیے نواز شریف کو ٹارگٹ کیا کیونکہ عمران خان کی سیاسی ،انتخابی کامیابی کا انحصار اسی پر تھا کہ وہ پنجاب میں اپنا سیاسی اثرو رسوخ مضبوط بنائیں اس کیلئے چیئرمین تحریک انصاف نے میاں برادران کو خصوصا ًنواز شریف کواس حال تک پہنچا دیا کہ آج وہ خود کوبند گلی میں دیکھ رہے ہیں۔ سینٹ سربراہی کے حوالے سے پی ٹی آئی خاموش رہتی تو ن لیگ چیئرمین شپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی تھی ۔دوسرے یہ کہ تحریک انصاف براہ راست ووٹ پیپلزپارٹی کو نہیں دینا چاہتی تھی چونکہ ایسی صورت میں تحریک انصاف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا بظاہر یہ وقت پی ٹی آئی کیلئے۔ تحریک انصاف نے صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے نہایت خوبصورت چال چلی کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔یعنی ن لیگ کوشکست بھی ہو جائے اور زرداری کو ووٹ بھی نہ دینا پڑے۔

تحریک انصاف نے یہ کیا کہ بلوچستان سے چیئرمین لینے کے بیانیے کو سپورٹ کرنا شروع کردیا۔ اس کا مقصد ایک تو اہل بلوچستان سے داد وصول کرنا تھی اور دوسرا ملک بھر سے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنا تھا۔ دوسری طرف زرداری صاحب کی بھی یہی مجبوری تھی کہ وہ میاں صاحب کو سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ اگروہ نواز شریف کو سیاسی کمک پہنچاتے تو انتخابات کے نزدیک یہ عمل پیپلزپارٹی کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا۔ حالانکہ آصف زرداری کو رضا ربانی کے سینٹ چیئرمین کے امیدوار ہونے کی صورت میں ن لیگ نے سپورٹ کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا جسے زرداری صاحب نے کمال مہربانی سے رد کردیا۔ دوسرے آصف علی زرداری کیلئے اچھا موقع تھا کہ خان کا ساتھ دے کر اپنے لیے رائے عامہ مثبت اور ہموار کی جائے اورخان کی تبدیلی کے بیانیے سے اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کیا جائے۔ اگر زرداری صاحب بلوچستان سے سینٹ چیئرمین کے بیانے کو سپورٹ نہ کرتے تو انہیں بلوچستان اور تحریک انصاف کے ممبران سمیت کئی دوسرے ارکان کے ووٹوںسے ہاتھ دھونے پڑ سکتے تھے۔

اس لیے زرداری صاحب نے عمران خان کے بیانیے کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی بلوچستان سے چیئرمین سینٹ لینے کے حوالے سے ایک پوائنٹ پر آگئے۔ اگر یہی بلوچستان کارڈ میاں صاحب بھی کھیلتے تو ان کیلئے سودمند ثابت ہو سکتا تھا مگر انہوں نے اپنی سیاست میں ہمیشہ پنجاب کو بس اولیت دی ہے ،لیکن یہی غلطی ان کی جماعت کو لے ڈوبی۔ ان کے آس پاس اہم عہدوں پر بھی وسطی پنجاب کے لوگوں نے گھیرا ڈال رکھا ہے۔ اس طرح میاں صاحب کو ناقص سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی یہ معرکہ سر کرنے میں کامیاب رہیں۔ پنجاب میں تحریک انصاف کو سپیس مل چکی ہے جبکہ زرداری صاحب کو پنجاب سر کرنے کیلئے ابھی مزید تگ و دو کی ضرورت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں