84

سب پہ بھاری اور بازی گر کا مقابلہ

تحریر: صابر بخاری

ن لیگ کے 32 اور پیپلزپارٹی کے 20 ووٹس کے باوجود دونوں جماعتیں سینٹ کی چیئرمین شپ پر کامیاب کیوں نہیں ہوسکیں اور ایک آزاد امیدوار کیونکر کامیاب ہوا؟ تو اسکی بڑی وجہ تحریک انصاف ہے. تحریک انصاف کے پاس صرف 12 سیٹیں تھیں- ظاہر ہے اتنی کم سیٹوں سے پی ٹی آئی چیئرمین کی سیٹ نہیں جیت سکتی تھی. تب اس نے کمال مہارت سے پتہ پھینکا اور بلوچستان کو چیئرمین شپ دینے کی آواز بلند کی.یہ آواز موثر اور وقت کی ضرورت تھی کہ مجبورا زرداری صاحب کو بھی اسی آواز پر لبیک کہنا پڑا. یہ بات سب جانتے ہیں سلیم مانڈوی والا زرداری صاحب کے چیئرمین کے امیدوار تھے جن کو مجبورا ڈپٹی چیئرمین پر لانا پڑا- بصورت دیگر زرداری صاحب کو شکست ہوسکتی تھی چونکہ پی ٹی آئی کیساتھ بلوچستان کے سینیٹرز کا ووٹ زرداری صاحب کے پلڑے میں نہ پڑتا. اسکا فائدہ ن لیگ اٹھا سکتی تھی جسکا فائدہ نہ پی ٹی آئی کو ہوتا نہ پیپلزپارٹی کو.بلوچستان کے امیدوار کو ووٹ دینے سے زرداری صاحب کو ایک تو ڈپٹی چیئرمین کی سیٹ ملتی دوسرا چیئرمین شپ کا امیدوار اس کیلئے قابل قبول تھا. اس طرح تحریک انصاف نے دونوں بڑی جماعتوں کو نتھ ڈال دی اور ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوگیا.تحریک انصاف کی مثبت موو نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ بجا زرداری صاحب سب پر بھاری ہیں مگر آج کی سینٹ کی سیاست سے عمران خان نے خود کو سیاست کا بازی گر ثابت کردیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں